مستند رقیہ لائبریری

۳. تکالیف اور مسنون رقیہبراہِ راست ثابت (Tier A)

جنات کے اثرات اور شیطانی شر سے حفاظت کی مسنون رقیہ

پس منظر اور شرعی اہمیت

سرکش جنات اور شیاطین کے شر و وسوسوں سے بچاؤ کی سب سے مضبوط ترین ڈھال ذکر الٰہی اور مسنون اذکار ہیں۔ آیۃ الکرسی اور سورۃ البقرہ گھروں سے شیاطین کو بھگانے کا قطعی نبوی علاج ہیں۔ نیز مصیبت و بیماری پر صبر کرنا اور باقاعدہ علاج کروانا مؤمن کا شیوہ ہے (صحیح بخاری 5652)۔

📖تلاوت کے لیے قرآنی آیات و مسنون دعائیں

3 آیات و احادیث
قرآنقرآن 2:255
اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ۚ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ ۚ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ ۚ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ ۖ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ۖ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا ۚ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ
تلفظ (اردو رسم الخط):

اللہ لا الٰہ الا ھو الحی القیوم، لا تاخذہ سنۃ ولا نوم، لہ ما فی السمٰوٰت وما فی الارض، من ذا الذی یشفع عندہ الا باذنہ، یعلم ما بین ایدیھم وما خلفھم ولا یحیطون بشيء من علمہ الا بما شاء، وسع کرسیہ السمٰوٰت والارض ولا یؤدہ حفظھما وھو العلی العظیم۔

ترجمہ و مفہوم:

اللہ، جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ہمیشہ زندہ رہنے والا اور سب کو سنبھالنے والا ہے۔ نہ اسے اونگھ آتی ہے اور نہ نیند۔ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے حضور سفارش کر سکے؟ وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے۔ وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کر سکتے مگر جتنا وہ چاہے۔ اس کی کرسی آسمانوں اور زمین پر چھائی ہوئی ہے، اور ان کی حفاظت اسے تھکاتی نہیں۔ وہ بہت بلند اور عظمت والا ہے۔

حوالہ: احمد علی

حدیثSahih Muslim 780• Sahih
لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ مَقَابِرَ، إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْفِرُ مِنَ الْبَيْتِ الَّذِي تُقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ
تلفظ (اردو رسم الخط):

لا تجعلوا بیوتکم مقابر، ان الشیطان ینفر من البیت الذی تقرأ فیہ سورۃ البقرۃ

ترجمہ و مفہوم:

اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ۔ بے شک شیطان اس گھر سے بھاگ جاتا ہے جس میں سورۃ البقرہ پڑھی جاتی ہے۔

حوالہ: صحیح مسلم اردو

حدیثSahih al-Bukhari 5652• Sahih
عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ: أَلَا أُرِيكَ امْرَأَةً مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟ قُلْتُ: بَلَى. قَالَ: هَذِهِ الْمَرْأَةُ السَّوْدَاءُ أَتَتِ النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَتْ: إِنِّي أُصْرَعُ، وَإِنِّي أَتَكَشَّفُ، فَادْعُ اللَّهَ لِي. قَالَ: «إِنْ شِئْتِ صَبَرْتِ وَلَكِ الْجَنَّةُ، وَإِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُعَافِيَكِ»، فَقَالَتْ: أَصْبِرُ، فَقَالَتْ: إِنِّي أَتَكَشَّفُ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ لَا أَتَكَشَّفَ، فَدَعَا لَهَا.
تلفظ (اردو رسم الخط):

قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: ان شئت صبرت ولک الجنۃ، وان شئت دعوت اللہ ان یعافیک۔

ترجمہ و مفہوم:

عطاء بن ابی رباح سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: 'کیا میں تمہیں اہل جنت میں سے ایک عورت نہ دکھاؤں؟' میں نے کہا: 'ہاں۔' فرمایا: 'یہ عورت نبی ﷺ کے پاس آئی اور عرض کی: مجھے مرگی کے دورے پڑتے ہیں اور میرا پردہ کھل جاتا ہے، آپ اللہ سے میرے لیے دعا فرمائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو صبر کرو اور تمہارے لیے جنت ہے، اور اگر چاہو تو میں اللہ سے تمہاری عافیت کی دعا کرتا ہوں۔ اس نے کہا: میں صبر کروں گی، مگر میرے پردے کے لیے دعا فرما دیں تاکہ میرا جسم نہ کھلے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اس کے لیے دعا فرمائی۔'

حوالہ: صحیح بخاری

🌿دم کرنے کا مسنون طریقہ

گھر میں باقاعدگی سے سورۃ البقرہ کی تلاوت کریں (صحیح مسلم 780)۔ ہر فرض نماز کے بعد اور رات سوتے وقت آیۃ الکرسی پڑھیں۔ صبح و شام کے مسنون اذکار کی پابندی کریں۔ کسی عامل، کاہن یا نجومی کے پاس جانے سے مکمل پرہیز کریں۔

⚖️

اہم شرعی و طبی تنبیہ

رقیہ شرعیہ اللہ تعالیٰ سے پناہ اور شفا مانگنے کا ذریعہ ہے؛ یہ ڈاکٹری علاج کا متبادل نہیں ہے۔ بیماری میں مستند معالج سے رجوع کریں۔ کبھی تعویذ نہ لٹکائیں اور نہ ہی عاملوں یا کاہنوں کے پاس جائیں۔

متعلقہ موضوعات