تعویذ گنڈے رقیہ نہیں — یہ شرک اور حرام ہیں
پس منظر اور شرعی اہمیت
گلے، بازو یا کمر میں کسی بھی قسم کا تعویذ، دھاگہ یا منکا لٹکانا اسلام میں سخت حرام ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'جس نے تعویذ لٹکایا، اس نے شرک کیا' (مسند احمد ۱۷۴۲۲)۔ رقیہ زبان سے تلاوت اور دعا کا نام ہے، کسی چیز کو باندھنے یا لٹکانے کا نہیں۔
📖تلاوت کے لیے قرآنی آیات و مسنون دعائیں
1 آیات و احادیثمن تعلق تمیمۃ فقد اشرک۔
رسول اللہ ﷺ نے سخت تنبیہ فرمائی: 'جس نے کوئی تعویذ لٹکایا، اس نے یقیناً شرک کیا۔' (تعویذ گنڈے لٹکانا اسلام میں سخت حرام ہے اور رقیہ میں شمار نہیں ہوتا)۔
حوالہ: مسند احمد
🌿دم کرنے کا مسنون طریقہ
اگر آپ کے پاس کوئی تعویذ، دھاگہ یا کڑا ہے تو اسے فوراً بسم اللہ پڑھ کر ضائع کر دیں اور اللہ سے توبہ کریں۔ اس کے بجائے روزانہ صبح و شام آیت الکرسی اور تین قل پڑھنے کا معمول بنائیں۔
اہم شرعی و طبی تنبیہ
رقیہ شرعیہ اللہ تعالیٰ سے پناہ اور شفا مانگنے کا ذریعہ ہے؛ یہ ڈاکٹری علاج کا متبادل نہیں ہے۔ بیماری میں مستند معالج سے رجوع کریں۔ کبھی تعویذ نہ لٹکائیں اور نہ ہی عاملوں یا کاہنوں کے پاس جائیں۔
متعلقہ موضوعات
رقیہ شرعیہ کیا ہے اور اس کے شرائط و ضوابط
رقیہ شرعیہ کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ سے پناہ اور شفا طلب کرنے کے لیے قرآن مجید کی آیات اور مسنون دعائیں پڑھ کر ہلکا سا دم (پھونک) کرنا۔ شرعی شرائط: ۱) یہ کلام الٰہی یا اس کے اسماء و صفات پر مشتمل ہو، ۲) واضح اور قابل فہم عربی زبان میں ہو، اور ۳) یہ پختہ عقیدہ ہو کہ شفا صرف اللہ کے حکم سے ہوتی ہے، دم کی ذاتی کوئی طاقت نہیں۔
بیماری میں مستند معالج سے علاج کروانا لازم ہے
اسلام میں بیمار ہونے پر ڈاکٹری علاج کروانا اور دوا لینا سنت اور لازم ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'اللہ نے کوئی ایسی بیماری نازل نہیں کی جس کی شفا نازل نہ کی ہو' (بخاری ۵۶۷۸)۔ ہر بیماری کو جادو یا جنات سمجھنا جہالت ہے۔ رقیہ ڈاکٹری علاج کا متبادل نہیں بلکہ اس کے ساتھ ایک روحانی سبب ہے۔