رقیہ شرعیہ کیا ہے اور اس کے شرائط و ضوابط
پس منظر اور شرعی اہمیت
رقیہ شرعیہ کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ سے پناہ اور شفا طلب کرنے کے لیے قرآن مجید کی آیات اور مسنون دعائیں پڑھ کر ہلکا سا دم (پھونک) کرنا۔ شرعی شرائط: ۱) یہ کلام الٰہی یا اس کے اسماء و صفات پر مشتمل ہو، ۲) واضح اور قابل فہم عربی زبان میں ہو، اور ۳) یہ پختہ عقیدہ ہو کہ شفا صرف اللہ کے حکم سے ہوتی ہے، دم کی ذاتی کوئی طاقت نہیں۔
📖تلاوت کے لیے قرآنی آیات و مسنون دعائیں
1 آیات و احادیثاعرضوا علی رقاکم، لا باس بالرقی ما لم یکن فیہ شرک۔
رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام سے فرمایا: 'اپنے دم کے کلمات میرے سامنے پیش کرو؛ دم کرنے میں کوئی حرج نہیں جب تک کہ اس میں کوئی شرک نہ ہو۔' (شرط: صرف قرآنی و مسنون کلمات ہونے چاہئیں)۔
حوالہ: صحیح مسلم
🌿دم کرنے کا مسنون طریقہ
باوضو ہو کر کامل یقین اور اللہ پر توکل کے ساتھ قرآنی آیات اور مسنون دعائیں پڑھیں، اور اپنے اوپر یا مریض کے درد کے مقام پر ہلکی سی پھونک ماریں۔ کسی قسم کے غیر شرعی الفاظ یا نقش کا استعمال نہ کریں۔
اہم شرعی و طبی تنبیہ
رقیہ شرعیہ اللہ تعالیٰ سے پناہ اور شفا مانگنے کا ذریعہ ہے؛ یہ ڈاکٹری علاج کا متبادل نہیں ہے۔ بیماری میں مستند معالج سے رجوع کریں۔ کبھی تعویذ نہ لٹکائیں اور نہ ہی عاملوں یا کاہنوں کے پاس جائیں۔
متعلقہ موضوعات
بیماری میں مستند معالج سے علاج کروانا لازم ہے
اسلام میں بیمار ہونے پر ڈاکٹری علاج کروانا اور دوا لینا سنت اور لازم ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'اللہ نے کوئی ایسی بیماری نازل نہیں کی جس کی شفا نازل نہ کی ہو' (بخاری ۵۶۷۸)۔ ہر بیماری کو جادو یا جنات سمجھنا جہالت ہے۔ رقیہ ڈاکٹری علاج کا متبادل نہیں بلکہ اس کے ساتھ ایک روحانی سبب ہے۔
تعویذ گنڈے رقیہ نہیں — یہ شرک اور حرام ہیں
گلے، بازو یا کمر میں کسی بھی قسم کا تعویذ، دھاگہ یا منکا لٹکانا اسلام میں سخت حرام ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'جس نے تعویذ لٹکایا، اس نے شرک کیا' (مسند احمد ۱۷۴۲۲)۔ رقیہ زبان سے تلاوت اور دعا کا نام ہے، کسی چیز کو باندھنے یا لٹکانے کا نہیں۔